وہ جو
تیز دھوپ کے
کھردرے راستوں پر
بے رنگ ہو گئی تھی
ایک وقت کی
ست رنگی
اوڑھنی تھی
بے رنگ کو دنیا
کسی بھی رنگ میں
رنگ دیتی ہے
ایک دن
وہ بھی
رنگریز کے ہاتھوں
رنگ گئی
اور
اوڑھنی پھٹ گئی
نظم
نظم
شبنم عشائی
نظم
شبنم عشائی
وہ جو
تیز دھوپ کے
کھردرے راستوں پر
بے رنگ ہو گئی تھی
ایک وقت کی
ست رنگی
اوڑھنی تھی
بے رنگ کو دنیا
کسی بھی رنگ میں
رنگ دیتی ہے
ایک دن
وہ بھی
رنگریز کے ہاتھوں
رنگ گئی
اور
اوڑھنی پھٹ گئی