یہ بات روز ازل سے طے ہے
زمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گی
آسماں پر رہیں گی روحیں
مگر کوئی ہے جو یہ بتائے
ہماری پرچھائیوں کی قبریں
کہاں بنیں گی؟
نظم
نئے عہد کا نیا سوال
شہریار
نظم
شہریار
یہ بات روز ازل سے طے ہے
زمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گی
آسماں پر رہیں گی روحیں
مگر کوئی ہے جو یہ بتائے
ہماری پرچھائیوں کی قبریں
کہاں بنیں گی؟