EN हिंदी
مجبوری | شیح شیری
majburi

نظم

مجبوری

شارق کیفی

;

میں وہ تیسرا ہوں
جو خود کو گنہ گار محسوس کرنے کو مجبور ہوتا ہے

پر واقعے میں
ہر اک حادثے کی جگہ پر

عجب امتحاں ہے
اگر چپ رہوں تو کبوتر کو کھا جائے بلی

اڑا دوں
تو بلی مجھے کوستی ہے

کہ میں نے اسے آج فاقہ کرایا
مری ہار دونوں طرف سے ہے

اور وہ بھی اس جنگ میں
جس سے میرا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے

بہ ظاہر