EN हिंदी
کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے | شیح شیری
kisi tange mein phir saman rakkha ja raha hai

نظم

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے

شارق کیفی

;

کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کے
کچھ ٹوٹے ہوئے بال

آج بھی ممکن ہے مل جائیں
بڑے صندوق میں رکھے

مرے بد رنگ سے اک سویٹر پر
اسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے
وہی دہلیز ہے

لیکن مرے داڑھی نہیں ہے
مرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے

تھپک کر پیٹھ میری
بزرگوں کی طرح مجھ کو تسلی دے رہا ہے

اور میں اک بچے کی صورت رو رہا ہوں
ہچکیوں سے