EN हिंदी
زندگی کو کر گیا جنگل کوئی | شیح شیری
zindagi ko kar gaya jangal koi

غزل

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی

ظفر اقبال ظفر

;

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی
لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی

دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں
راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی

کوئی کنکر پھینکنے والا نہیں
کیسے پھر ہو جھیل میں ہلچل کوئی

زندگی تھی ایک صحرا کی طرح
زندگی کو کر گیا جل تھل کوئی

ہوش بھی اپنا نہیں رہتا مجھے
کر رہا کتنا ظفرؔ پاگل کوئی