EN हिंदी
یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں | شیح شیری
ye sochna ghalat hai ki tum par nazar nahin

غزل

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں

آلوک شریواستو

;

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں
مصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیں

اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہہ دیا
میں آپ کا رہوں گا مگر عمر بھر نہیں

آ ہی گئے ہیں خواب تو پھر جائیں گے کہاں
آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہ گزر نہیں

کتنا جئیں کہاں سے جئیں اور کس لئے
یہ اختیار ہم پہ ہے تقدیر پر نہیں

ماضی کی راکھ الٹیں تو چنگاریاں ملیں
بے شک کسی کو چاہو مگر اس قدر نہیں