EN हिंदी
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں | شیح شیری
ye mohabbat ka jo ambar paDa hai mujh mein

غزل

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

انجم سلیمی

;

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں

چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلا
ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں

میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں
صبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں

ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے
دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں

میرا دامن بھی کوئی دست ہوس کھینچتا ہے
ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں

کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو
عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں

میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا
میں نہیں میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں

مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی
ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں

اے برابر سے گزرتے ہوئے دکھ تھم تو سہی
تجھ پہ رونے کو عزا دار پڑا ہے مجھ میں

میرا ہونا مرے ہونے کی گواہی تو نہیں
میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں

بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں
کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں