EN हिंदी
یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے | شیح شیری
ye kya tahrir pagal likh raha hai

غزل

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

;

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے
ہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہے

نہ رو گستاخ بیٹے کے عمل پر
ترا گزرا ہوا کل لکھ رہا ہے

پڑھو ہر موج آیت کی طرح ہے
وہ دریا پر مسلسل لکھ رہا ہے

تھمے پانی کو تبدیلی مبارک
ہوا کا ہاتھ ہلچل لکھ رہا ہے

تجھے چھونا نرالا تجربہ تھا
وہ جھوٹا ہے جو مخمل لکھ رہا ہے

بنا کر شہر کا نقشہ وہ بچہ
بڑے حرفوں میں جنگل لکھ رہا ہے

خدائے امن جو کہتا ہے خود کو
زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے