EN हिंदी
یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئی | شیح شیری
yahi achchha hai jo is tarah miTae koi

غزل

یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئی

آل رضا رضا

;

یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئی
آپ بھی پھر مجھے ڈھونڈے تو نہ پائے کوئی

کوندتی برق نہ دیتی ہو جہاں فرصت دید
تاب کیا ہے جو وہاں آنکھ اٹھائے کوئی

بندشیں عشق میں دنیا سے نرالی دیکھیں
دل تڑپ جائے مگر لب نہ ہلائے کوئی