EN हिंदी
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے | شیح شیری
wafa ka ahd tha dil ko sambhaalne ke liye

غزل

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

احسان دانش

;

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا
جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے

کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگ
فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے

خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکی
بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے

اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
سمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے

ترے سلیقۂ ترتیب نو کا کیا کہنا
ہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے

کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے

یہ شعبدے ہی سہی کچھ فسوں گردوں کو بلاؤ
نئی فضا میں ستارے اچھالنے کے لئے

ہے صرف ہم کو ترے خال و خد کا اندازہ
یہ آئنہ تو ہیں حیرت میں ڈالنے کے لئے

نہ جانے کتنی مسافت سے آئے گا سورج
نگار شب کا جنازہ نکالنے کے لئے

میں پیش رو ہوں اسی خاک سے اگیں گے چراغ
نگاہ و دل کے افق کو اجالنے کے لئے

فصیل شب سے کوئی ہاتھ بڑھنے والا ہے
فضا کی جیب سے سورج نکالنے کے لئے

کنوئیں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں اے دانشؔ
کمند تھی جو مناروں پر ڈالنے کے لئے