EN हिंदी
تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا | شیح شیری
tha mujhse ham-kalam magar dekhne mein tha

غزل

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

احمد مشتاق

;

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا
جانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھا

کیسے مکاں اجاڑ ہوا کس سے پوچھتے
چولھے میں روشنی تھی نہ پانی گھڑے میں تھا

تا صبح برگ و شاخ و شجر جھومتے رہے
کل شب بلا کا سوز ہوا کے گلے میں تھا

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہوا
شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا