EN हिंदी
سر بریدہ ہوا مقابل ہے | شیح شیری
sar-burida hua muqabil hai

غزل

سر بریدہ ہوا مقابل ہے

ظفر اقبال ظفر

;

سر بریدہ ہوا مقابل ہے
سب کی آنکھوں میں خوف شامل ہے

تھا محافظ کبھی یہی انساں
آج انسانیت کا قاتل ہے

بستیاں پھونکنا جلانا گھر
کیا یہی آدمی کا حامل ہے

وقت کب اس کا ساتھ دیتا ہے
روز فردا سے جو کہ غافل ہے

جس نے بخشا تھا زندگی کو فروغ
اب وہ دہشت گروں میں شامل ہے