EN हिंदी
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا | شیح شیری
parakhna mat parakhne mein koi apna nahin rahta

غزل

پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا

بشیر بدر

;

پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں
عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا

محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا