EN हिंदी
پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں | شیح شیری
pan ban ban ke meri jaan kahan jate hain

غزل

پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں

ظہیرؔ دہلوی

;

پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں
یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں

سر اگر جائے تو جائے مگر اے خنجر یار
سر سے اپنے ترے احسان کہاں جاتے ہیں

بعد مرنے کے بھی مٹی مری برباد رہی
مری تقدیر کے نقصان کہاں جاتے ہیں

حال کھلتا نہیں ان خویش فراموشوں کا
روز کے روز یہ مہمان کہاں جاتے ہیں

کس کی آشفتہ مزاجی کا خیال آیا ہے
آپ حیران پریشان کہاں جاتے ہیں

آج کس منہ سے مری دل شکنی ہوتی ہے
آج وہ آپ کے مہمان کہاں جاتے ہیں

اے ظہیرؔ اب یہ کھلا حال بڑی دور ہیں آپ
آپ جاتے ہیں جہاں دھیان کہاں جاتے ہیں