EN हिंदी
ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت | شیح شیری
naKHuda saKHt KHafa garche hamin par the bahut

غزل

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت

جلیل حیدر لاشاری

;

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت
ہم نے بھی عزم کے پہنے ہوئے زیور تھے بہت

تو نے دستک ہی نہیں دی کسی دروازے پر
ورنہ کھلنے کو تو دیوار میں بھی در تھے بہت

اڑ نہیں پایا اگرچہ یہ فضا بھی تھی کھلی
میرے اندر سے مجھے جکڑے ہوئے ڈر تھے بہت

جیت تیرا ہی مقدر تھی سو تو جیت گیا
ورنہ ہارے ہوئے لشکر میں سکندر تھے بہت

خام تھی پیاس تری ورنہ تو اس دشت میں بھی
ایک ایڑی کے رگڑنے پہ سمندر تھے بہت

چھن گئی آنکھ سے حیرت کہ تری بستی میں
ہر گھڑی رنگ بدلتے ہوئے منظر تھے بہت

وقت کی موج ہمیں پار لگاتی کیسے
ہم نے ہی جسم سے باندھے ہوئے پتھر تھے بہت