EN हिंदी
مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے (ردیف .. ن) | شیح شیری
muraden koi pata hai kisi ki jaan jati hai

غزل

مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے (ردیف .. ن)

ظہیرؔ دہلوی

;

مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے
ہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیں

عدو عاشق سہی مانا اسی پر منحصر کیا ہے
ابھی تو چاہنے والے بہت بچپن کے بیٹھے ہیں

صبا کیا خاک اڑائے گی عدو کیا قہر ڈھائیں گے
وہ خود پامال کرنے کو مرے مدفن کے بیٹھے ہیں

سراغ نقش پائے غیر شاید اپنا رہبر ہو
سر راہ طلب ہم منتظر رہزن کے بیٹھے ہیں