مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا
میرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا
وہ بارگاہ میری وفا کا جواز تھی
اس آستاں کی خاک مرا ہی شباب تھا
دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست
اس عاشقی میں خانہ ہمہ آفتاب تھا
تو کب مآل جور و جفا کو سمجھ سکا
تیرا جمال تیرے لیے بھی حجاب تھا
وہ حسن کس قدر ادب آموز تھا ظہیرؔ
قد خامۂ رواں تھا تو چہرہ کتاب تھا
غزل
مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا
ظہیر کاشمیری

