EN हिंदी
کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا | شیح شیری
kyun main ab qabil-e-jafa na raha

غزل

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

بیخود بدایونی

;

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا
کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا

ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں
مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے
میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

اف رے نا آشنائیاں اس کی
چار دن بھی تو آشنا نہ رہا

لاکھ پردے میں کوئی کیوں نہ چھپے
راز الفت تو اب چھپا نہ رہا

اتنی مایوسیاں بھی کیا بیخودؔ
کیا خدا کا بھی آسرا نہ رہا