EN हिंदी
کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے | شیح شیری
kaniz-e-waqt ko nilam kar diya sab ne

غزل

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے

ظفر اقبال ظفر

;

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے
یہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نے

کوئی بھی شخص صحت مند کیا نظر آئے
منافرت کا سبق عام کر دیا سب نے

ملی نہ جب انہیں تعبیر اپنے خوابوں کی
پھر اپنی آنکھوں کو نیلام کر دیا سب نے

برا سمجھ کے بزرگوں نے جس کو چھوڑا تھا
وہ کار بد خوش انجام دیا سب نے

ہر ایک سچ کو تو منسوب کر لیا خود سے
تمام جھوٹ مرے نام کر دیا سب نے

جو اپنے عہد کو سچائی بانٹتا تھا ظفرؔ
اس ایک شخص کو بدنام کر دیا سب نے