EN हिंदी
جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے | شیح شیری
jabr-e-haalat ka to nam liya hai tumne

غزل

جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے

آل احمد سرور

;

جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے
اپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نے

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو
ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

عمر گزری ہے اندھیرے کا ہی ماتم کرتے
اپنے شعلے سے بھی کچھ کام لیا ہے تم نے

ہم فقیروں سے ستائش کی تمنا کیسی
شہریاروں سے جو انعام لیا ہے تم نے

قرض بھی ان کے معانی کا ادا کرنا ہے
گرچہ لفظوں سے بڑا کام لیا ہے تم نے

ان اصولوں کے کبھی زخم بھی کھائے ہوتے
جن اصولوں کا بہت نام لیا ہے تم نے

لب پہ آتے ہیں بہت ذوق سفر کے نغمے
اور ہر گام پہ آرام لیا ہے تم نے