EN हिंदी
ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں | شیح شیری
hazaron tarah apna dard hum isko sunate hain

غزل

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

آسی الدنی

;

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں
مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں

بجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو
سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں

مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں
وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں

اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسیؔ
اشارے میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں