EN हिंदी
دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے | شیح شیری
dil daba jata hai kitna aaj gham ke bar se

غزل

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

اکبر حیدرآبادی

;

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے
کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

منزل اقرار اپنی آخری منزل ہے اب
ہم کہ آئے ہیں گزر کر جادۂ انکار سے

ترجماں تھا عکس اپنے چہرۂ گم گشتہ کا
اک صدا آتی رہی آئینۂ اسرار سے

ماند پڑتے جا رہے تھے خواب تصویروں کے رنگ
رات اترتی جا رہی تھی درد کی دیوار سے

میں بھی اکبرؔ کرب آگیں جانتا ہوں زیست کو
منسلک ہے فکر میری فکر شوپنہار سے