EN हिंदी
چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا | شیح شیری
chahiye ishq mein is tarah fana ho jaana

غزل

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا

احسن مارہروی

;

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا
جس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا

کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا
روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا

موت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی
ورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا

اپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے
خرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو جانا

وقعت عشق کہاں جب یہ تلون ہو وہاں
کبھی راضی کبھی عاشق سے خفا ہو جانا

جب ملاقات ہوئی تم سے تو تکرار ہوئی
ایسے ملنے سے تو بہتر ہے جدا ہو جانا

چھیڑ کچھ ہو کہ نہ ہو بات ہوئی ہو کہ نہ ہو
بیٹھے بیٹھے انہیں آتا ہے خفا ہو جانا

مجھ سے پھر جائے جو دنیا تو بلا سے پھر جائے
تو نہ اے آہ زمانے کی ہوا ہو جانا

احسنؔ اچھا ہے رہے مال عرب پیش عرب
دے کے دل تم نہ گرفتار بلا ہو جانا