EN हिंदी
وپل کمار شیاری | شیح شیری

وپل کمار شیر

20 شیر

سفیر عشق ہمیں اب تو ہم سفر کر لو
ہمارے پاس تو سامان بھی زیادہ نہیں

وپل کمار




اتنا حیران نہ ہو میری انا پر پیارے
عشق میں بھی کئی خوددار نکل آتے ہیں

وپل کمار




کچھ اس لیے بھی تری آرزو نہیں ہے مجھے
میں چاہتا ہوں مرا عشق جاودانی ہو

وپل کمار




میں تو شب فراق تھا تم ایک عمر تھی
پھر بھی زیادہ تم سے گزارہ گیا مجھے

وپل کمار




مجھ سے کب اس کو محبت تھی مگر میرے بعد
اس نے جس شخص کو چاہا وہ مرے جیسا تھا

وپل کمار




اس ہجر پہ تہمت کہ جسے وصل کی ضد ہو
اس درد پہ لعنت کی جو اشعار میں آ جائے

وپل کمار




وہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تجھ کو پا لے گا
سو دیکھ صبر کا اعلان بھی زیادہ نہیں

وپل کمار




اسے تو دولت دنیا بھی کم بھی پانے کو
مری تو ذات کا میزان بھی زیادہ نہیں

وپل کمار




اس سے پہلے کہ یہ آزار گوارہ کر لیں
آ مری جان محبت سے کنارہ کر لیں

وپل کمار