ساتھ ہونے کے یقیں میں بھی مرے ساتھ ہو تم
اور نہ ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں
طارق قمر
میں چاہتا ہوں کبھی یوں بھی ہو کہ میری طرح
وہ مجھ کو ڈھونڈنے نکلے مگر نہ پائے مجھے
طارق قمر
میرے زخموں کا سبب پوچھے گی دنیا تم سے
میں نے ہر زخم کی پہچان میں رکھا ہے تمہیں
طارق قمر
مزاج اپنا ملا ہی نہیں زمانے سے
نہ میں ہوا کبھی اس کا نہ یہ زمانہ مرا
طارق قمر
پھر آج بھوک ہمارا شکار کر لے گی
کہ رات ہو گئی دریا میں جال ڈالے ہوئے
طارق قمر
وہ لوگ بھی تو کناروں پہ آ کے ڈوب گئے
جو کہہ رہے تھے سمندر ہیں سب کھنگالے ہوئے
طارق قمر
ذہن پر بوجھ رہا، دل بھی پریشان ہوا
ان بڑے لوگوں سے مل کر بڑا نقصان ہوا
طارق قمر
یہ کس کی پیاس کے چھینٹے پڑے ہیں پانی پر
یہ کون جبر کا قصہ تمام کر آیا
طارق قمر
کیا عجب لوگ تھے گزرے ہیں بڑی شان کے ساتھ
راستے چپ ہیں مگر نقش قدم بولتے ہیں
طارق قمر

