EN हिंदी
صوفی تبسم شیاری | شیح شیری

صوفی تبسم شیر

16 شیر

آج تبسمؔ سب کے لب پر
افسانے ہیں میرے تیرے

صوفی تبسم




ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

it should not be that this ache intensifies past remedy
it should not happen even you do not have a cure for me

صوفی تبسم




اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی

صوفی تبسم




دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

صوفی تبسم




دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں
نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو

صوفی تبسم




ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں
جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں

صوفی تبسم




حسن کا دامن پھر بھی خالی
عشق نے لاکھوں اشک بکھیرے

صوفی تبسم




اک فقط یاد ہے جانا ان کا
اور کچھ اس کے سوا یاد نہیں

صوفی تبسم




اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

صوفی تبسم