میرے ہونٹوں پہ خامشی ہے بہت
ان گلابوں پہ تتلیاں رکھ دے
شکیل اعظمی
جب تلک اس نے ہم سے باتیں کیں
جیسے پھولوں کے درمیان تھے ہم
شکیل اعظمی
خود کو اتنا بھی نہ بچایا کر
بارشیں ہوں تو بھیگ جایا کر
شکیل اعظمی
کچھ دنوں کے لیے منظر سے اگر ہٹ جاؤ
زندگی بھر کی شناسائی چلی جاتی ہے
شکیل اعظمی
میں سو رہا ہوں ترے خواب دیکھنے کے لئے
یہ آرزو ہے کہ آنکھوں میں رات رہ جائے
شکیل اعظمی
پھر یوں ہوا تھکن کا نشہ اور بڑھ گیا
آنکھوں میں ڈوبتا ہوا جادہ لگا ہمیں
شکیل اعظمی
زمین لے کے وہ آئے تو گھر بنایا جائے
کھڑے ہیں دیر سے ہم لوگ اینٹ گارے لئے
شکیل اعظمی
تمہارے درد سے لے کر ہمارے آنسو تک
بڑی طویل کہانی ہے آگ پانی کی
شکیل اعظمی
جانے کیسا رشتہ ہے رہ گزر کا قدموں سے
تھک کے بیٹھ جاؤں تو راستہ بلاتا ہے
شکیل اعظمی

