EN हिंदी
سلام ؔمچھلی شہری شیاری | شیح شیری

سلام ؔمچھلی شہری شیر

19 شیر

کبھی کبھی تو سنا ہے ہلا دیے ہیں محل
ہمارے ایسے غریبوں کی التجاؤں نے

سلام ؔمچھلی شہری




یوں ہی آنکھوں میں آ گئے آنسو
جائیے آپ کوئی بات نہیں

سلام ؔمچھلی شہری




وہ صرف میں ہوں جو سو جنتیں سجا کر بھی
اداس اداس سا تنہا دکھائی دینے لگے

سلام ؔمچھلی شہری




وہ دل سے تنگ آ کے آج محفل میں حسن کی تمکنت کی خاطر
نظر بچانا بھی چاہتے ہیں نظر ملانا بھی چاہتے ہیں

سلام ؔمچھلی شہری




تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو
جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی

سلام ؔمچھلی شہری




شکریہ اے گردش جام شراب
میں بھری محفل میں تنہا ہو گیا

سلام ؔمچھلی شہری




روز پوجا کے لئے پھول سجاتا ہے سلامؔ
جانے کب اس کا خدا سوئے زمیں آئے گا

سلام ؔمچھلی شہری




رات دل کو تھا سحر کا انتظار
اب یہ غم ہے کیوں سویرا ہو گیا

سلام ؔمچھلی شہری




میری موت اے ساقی ارتقا ہے ہستی کا
اک سلامؔ جاتا ہے ایک آنے والا ہے

سلام ؔمچھلی شہری