پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں
سیف الدین سیف
سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی
اب کے برسات اور ہی کچھ تھی
سیف الدین سیف
سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
سیف الدین سیف
رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے
کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے
سیف الدین سیف
قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی
نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا
سیف الدین سیف
مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
سیف الدین سیف
کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل
یہ دیا کون بجھا دیتا ہے
سیف الدین سیف
میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے
میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے
سیف الدین سیف
شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے
سیف الدین سیف

