مل ملا کے دونوں نے دل کو کر دیا برباد
حسن نے کیا بے خود عشق نے کیا آزاد
ساحر دہلوی
میں دیوانہ ہوں اور دیر و حرم سے مجھ کو وحشت ہے
پڑی رہنے دو میرے پاؤں میں زنجیر مے خانہ
ساحر دہلوی
کیا شوق کا عالم تھا کہ ہاتھوں سے اڑا خط
دل تھام کے اس شوخ کو لکھنے جو لگا خط
ساحر دہلوی
آتے ہوئے اس تن میں نہ جاتے ہوئے تن سے
ہے جان مکیں کو نہ لگاوٹ نہ رکاوٹ
ساحر دہلوی
کونین عین علم میں ہے جلوہ گاہ حسن
جیب خرد سے عینک عرفاں نکالئے
ساحر دہلوی
جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب
مرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلب
ساحر دہلوی
ہم گدائے در مے خانہ ہیں اے پیر مغاں
کام اپنا ترے صدقہ میں چلا لیتے ہیں
ساحر دہلوی
ہے صنم خانہ مرا پیمان عشق
ذوق مے خانہ مجھے سامان عشق
ساحر دہلوی
غم موجود غلط اور غم فردا باطل
راحت اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں
ساحر دہلوی

