EN हिंदी
قابل اجمیری شیاری | شیح شیری

قابل اجمیری شیر

30 شیر

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے

قابل اجمیری




کوچۂ یار مرکز انوار
اپنے دامن میں دشت غم کی خاک

قابل اجمیری




میں اپنے غم خانۂ جنوں میں
تمہیں بلانا بھی جانتا ہوں

قابل اجمیری




مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو
مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے

قابل اجمیری




رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

قابل اجمیری




راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

قابل اجمیری




تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

قابل اجمیری




تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑے
ہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئے

قابل اجمیری




یہ سب رنگینیاں خون تمنا سے عبارت ہیں
شکست دل نہ ہوتی تو شکست زندگی ہوتی

قابل اجمیری