میری شہرت کے پیچھے ہے
ہاتھ بہت رسوائی کا
پریم بھنڈاری
تیری چاہت کی ہے اتنی شدت
پا لیا تجھ کو تو مر جاؤں گا
پریم بھنڈاری
تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں
تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں
پریم بھنڈاری
شام ہوئی تو سورج سوچے
سارا دن بے کار جلے تھے
پریم بھنڈاری
شنکر بنا کے لوگ مجھے پوجتے رہے
مجبوریوں میں زہر نگلنا پڑا مجھے
پریم بھنڈاری
ساری ساری رات میں جاگا
وہ میری آنکھوں میں سویا
پریم بھنڈاری
ساری بے رنگ سوچ کے چہرے
لفظ پہنیں تو پھر نکھرتے ہیں
پریم بھنڈاری
رنگ تیرا اڑا اڑا سا ہے
لگ گئی ہے تجھے نظر شاید
پریم بھنڈاری
پہلی سانس پہ میں رویا تھا آخری سانس پہ دنیا
ان سانسوں کے بیچ میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا
پریم بھنڈاری

