عشاق جو تصور برزخ کے ہو گئے
آتی ہے دم بہ دم یہ انہیں کو صدائے قلب
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
نہیں کھلتا سبب تبسم کا
آج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مدد
پر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرح
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھا
شوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھا
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئے
کیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میں
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
سالک ہے گرچہ سیر مقامات دل فریب
جو رک گئے یہاں وہ مقام خطر میں ہیں
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
سکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر
نقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق
کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ہے
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
یہ زمزمہ طیور خوش آہنگ کا نہیں
ہے نغمہ سنج بلبل رنگیں نوائے قلب
پنڈت جواہر ناتھ ساقی

