EN हिंदी
نذیر قیصر شیاری | شیح شیری

نذیر قیصر شیر

17 شیر

خواب کیا تھا جو مرے سر میں رہا
رات بھر اک شور سا گھر میں رہا

نذیر قیصر




یوں تجھے دیکھ کے چونک اٹھتی ہیں سوئی یادیں
جیسے سناٹے میں آواز لگا دے کوئی

نذیر قیصر




اس نے خط میں بھیجے ہیں
بھیگی رات اور بھیگا دن

نذیر قیصر




ابھر رہے ہیں کئی ہاتھ شب کے پردے سے
کوئی ستارہ لیے کوئی ماہتاب لیے

نذیر قیصر




رنگ لائی ہے حسرت تعمیر
گر رہی ہیں عمارتیں کیا کیا

نذیر قیصر




پتھر ہوتا جاتا ہوں
ہنسنے دو یا رونے دو

نذیر قیصر




نیا لباس پہن کر بھی
دنیا وہی پرانی ہے

نذیر قیصر




میں اسے کیسے جیت سکتا ہوں
وہ مجھے اپنا جسم ہارتی ہے

نذیر قیصر




کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا
بھول گیا ہے رستہ مجھ میں

نذیر قیصر