EN हिंदी
محسن اسرار شیاری | شیح شیری

محسن اسرار شیر

22 شیر

محسنؔ برے دنوں میں نیا دوست کون ہو
ہے جس کا پہلا قرض اسی سے سوال کر

محسن اسرار




جس دن کے گزرتے ہی یہاں رات ہوئی ہے
اے کاش وہ دن میں نے گزارا نہیں ہوتا

محسن اسرار




جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں
کہتا بھی تو وہ اس کو گوارا نہیں ہوتا

محسن اسرار




خود کو میں بھلا زیر زمیں کیسے دباتا
جتنے بھی کھنڈر نکلے وہ آباد سے نکلے

محسن اسرار




کیا زمانہ تھا کہ ہم خوب جچا کرتے تھے
اب تو مانگے کی سی لگتی ہیں قبائیں اپنی

محسن اسرار




میں بیٹھ گیا خاک پہ تصویر بنانے
جو کبر تھے مجھ میں وہ تری یاد سے نکلے

محسن اسرار




تیری ہی طرح آتا ہے آنکھوں میں ترا خواب
سچا نہیں ہوتا کبھی جھوٹا نہیں ہوتا

محسن اسرار




وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے
پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے

محسن اسرار




تو خود بھی جاگتا رہ اور مجھ کو بھی جگاتا رہ
نہیں تو زندگی کو دوسرا قصہ پکڑ لے گا

محسن اسرار