نہ کافر سے خلوت نہ زاہد سے الفت
ہم اک بزم میں تھے یہ سب سے جدا تھے
مرزا محمد تقی ہوسؔ
زاہد کا دل نہ خاطر مے خوار توڑیئے
سو بار تو یہ کیجیے سو بار توڑیئے
مرزا محمد تقی ہوسؔ
یا خفا ہوتے تھے ہم تو منتیں کرتے تھے آپ
یا خفا ہیں ہم سے وہ اور ہم منا سکتے نہیں
مرزا محمد تقی ہوسؔ
تلاش اس طرح بزم عیش میں ہے بے نشانوں کی
کوئی کپڑے میں جیسے زخم سوزن کا نشاں ڈھونڈھے
مرزا محمد تقی ہوسؔ
سنتا ہوں نہ کانوں سے نہ کچھ منہ سے ہوں بکتا
خالی ہے جگہ محفل تصویر میں میری
مرزا محمد تقی ہوسؔ
صحرا میں ہوسؔ خار مغیلاں کی مدد سے
بارے مرا خوں ہر خس و خاشاک کو پہنچا
مرزا محمد تقی ہوسؔ
صد چاک کیا پیرہن گل کو صبا نے
جب وہ نہ تری خوبیٔ پوشاک کو پہنچا
مرزا محمد تقی ہوسؔ
سب ہم صفیر چھوڑ کے تنہا چلے گئے
کنج قفس میں مجھ کو گرفتار دیکھ کر
مرزا محمد تقی ہوسؔ
رنگ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں
شمع حرم چراغ دیر قشقۂ برہمن ہوں میں
مرزا محمد تقی ہوسؔ

