EN हिंदी
مرزا ہادی رسوا شیاری | شیح شیری

مرزا ہادی رسوا شیر

17 شیر

ہم کو بھی کیا کیا مزے کی داستانیں یاد تھیں
لیکن اب تمہید ذکر درد و ماتم ہو گئیں

مرزا ہادی رسوا




یہ فقط آپ کی عنایت ہے
ورنہ میں کیا مری حقیقت کیا

مرزا ہادی رسوا




انہیں کا نام لے لے کر کوئی فرقت میں مرتا ہے
کبھی وہ بھی تو سن لیں گے جو بدنامی سے ڈرتے ہیں

مرزا ہادی رسوا




ٹلنا تھا میرے پاس سے اے کاہلی تجھے
کمبخت تو تو آ کے یہیں ڈھیر ہو گئی

مرزا ہادی رسوا




مرنے کے دن قریب ہیں شاید کہ اے حیات
تجھ سے طبیعت اپنی بہت سیر ہو گئی

مرزا ہادی رسوا




لب پہ کچھ بات آئی جاتی ہے
خامشی مسکرائی جاتی ہے

مرزا ہادی رسوا




کیا کہوں تجھ سے محبت وہ بلا ہے ہمدم
مجھ کو عبرت نہ ہوئی غیر کے مر جانے سے

مرزا ہادی رسوا




کس قدر معتقد حسن مکافات ہوں میں
دل میں خوش ہوتا ہوں جب رنج سوا ہوتا ہے

مرزا ہادی رسوا




ہم نشیں دیکھی نحوست داستان ہجر کی
صحبتیں جمنے نہ پائی تھیں کہ برہم ہو گئیں

مرزا ہادی رسوا