EN हिंदी
منیش شکلا شیاری | شیح شیری

منیش شکلا شیر

29 شیر

سنا ہے رات پورے چاند کی ہے
سمندر شام سے بہکا ہوا ہے

منیش شکلا




کوئی تعمیر کی صورت تو نکلے
ہمیں منظور ہے بنیاد ہونا

منیش شکلا




لطف تو دیتی ہے یہ آوارگی
پھر بھی ہم کو لوٹ جانا چاہئے

منیش شکلا




میں تھا جب کارواں کے ساتھ تو گل زار تھی دنیا
مگر تنہا ہوا تو ہر طرف صحرا ہی صحرا تھا

منیش شکلا




مرے دل میں کوئی معصوم بچہ
کسی سے آج تک روٹھا ہوا ہے

منیش شکلا




مری آوارگی ہی میرے ہونے کی علامت ہے
مجھے پھر اس سفر کے بعد بھی کوئی سفر دینا

منیش شکلا




سفر میں اب مسلسل زلزلے ہیں
وہ رک جائیں جنہیں گرنے کا ڈر ہے

منیش شکلا




سیدھے اپنی بات پہ آ
یہ لہجہ درباری چھوڑ

منیش شکلا




زمانے سے گھبرا کے سمٹے تھے خود میں
مگر اب تو خود سے بھی اکتا رہے ہیں

منیش شکلا