سفر میں اب مسلسل زلزلے ہیں
وہ رک جائیں جنہیں گرنے کا ڈر ہے
منیش شکلا
مری آوارگی ہی میرے ہونے کی علامت ہے
مجھے پھر اس سفر کے بعد بھی کوئی سفر دینا
منیش شکلا
مرے دل میں کوئی معصوم بچہ
کسی سے آج تک روٹھا ہوا ہے
منیش شکلا
میں تھا جب کارواں کے ساتھ تو گل زار تھی دنیا
مگر تنہا ہوا تو ہر طرف صحرا ہی صحرا تھا
منیش شکلا
لطف تو دیتی ہے یہ آوارگی
پھر بھی ہم کو لوٹ جانا چاہئے
منیش شکلا
کوئی تعمیر کی صورت تو نکلے
ہمیں منظور ہے بنیاد ہونا
منیش شکلا
آخر ہم کو بے زاری تک لے آئی
ہر شے پر گرویدہ رہنے کی عادت
منیش شکلا
کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا
خود سے ملنا بھی اب محال ہوا
منیش شکلا
کسی کے عشق میں برباد ہونا
ہمیں آیا نہیں فرہاد ہونا
منیش شکلا

