EN हिंदी
کرشن بہاری نور شیاری | شیح شیری

کرشن بہاری نور شیر

12 شیر

آئنہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر
آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں

my physical external form, the mirror does reflect
but it does not revel my innermost aspect

کرشن بہاری نور




چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

in golden frame you may display
untruth the mirror will not say

کرشن بہاری نور




ہوس نے توڑ دی برسوں کی سادھنا میری
گناہ کیا ہے یہ جانا مگر گناہ کے بعد

کرشن بہاری نور




اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں

کرشن بہاری نور




کیسی عجیب شرط ہے دیدار کے لیے
آنکھیں جو بند ہوں تو وہ جلوہ دکھائی دے

کرشن بہاری نور




کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں
جس آئینے میں عکس نہ اس کا دکھائی دے

کرشن بہاری نور




میں جس کے ہاتھ میں اک پھول دے کے آیا تھا
اسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے

کرشن بہاری نور




سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

کرشن بہاری نور




تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی
کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت

کرشن بہاری نور