EN हिंदी
خورشید رضوی شیاری | شیح شیری

خورشید رضوی شیر

25 شیر

پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے
یہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے

خورشید رضوی




خورشیدؔ اب کہاں ہے کسی کو پتا نہیں
گزرا تو تھا کسی کا پتا پوچھتا ہوا

خورشید رضوی




مقام جن کا مورخ کے حافظے میں نہیں
شکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ

خورشید رضوی




موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے
روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا

خورشید رضوی




مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کر
یہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے

خورشید رضوی




مجھے بھی اپنا دل رفتہ یاد آتا ہے
کبھی کبھی کسی بازار سے گزرتے ہوئے

خورشید رضوی




نسخۂ مرہم اکسیر بتانے والے
تو مرا زخم تو پہلے مجھے واپس کر دے

خورشید رضوی




تو مجھے بنتے بگڑتے ہوئے اب غور سے دیکھ
وقت کل چاک پہ رہنے دے نہ رہنے دے مجھے

خورشید رضوی




یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے
سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو

خورشید رضوی