مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کر
یہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے
خورشید رضوی
موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے
روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا
خورشید رضوی
مقام جن کا مورخ کے حافظے میں نہیں
شکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ
خورشید رضوی
خورشیدؔ اب کہاں ہے کسی کو پتا نہیں
گزرا تو تھا کسی کا پتا پوچھتا ہوا
خورشید رضوی
آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر
رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا
خورشید رضوی
جو شخص نہ رویا تھا تپتی ہوئی راہوں میں
دیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا
خورشید رضوی
جسم کی چوکھٹ پہ خم دل کی جبیں کر دی گئی
آسماں کی چیز کیوں صرف زمیں کر دی گئی
خورشید رضوی
اس اعتراف سے رس گھل رہا ہے کانوں میں
وہ اعتراف جو اس نے ابھی کیا بھی نہیں
خورشید رضوی
ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسے
ہم سے جانے کس لیے دنیا نہ ٹھکرائی گئی
خورشید رضوی

