EN हिंदी
افتخار راغب شیاری | شیح شیری

افتخار راغب شیر

21 شیر

سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دم
خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد

افتخار راغب




کیا بتاؤں کہ کتنی شدت سے
تم سے ملنے کو چاہتا ہے جی

افتخار راغب




لے جائے جہاں چاہے ہوا ہم کو اڑا کر
ٹوٹے ہوئے پتوں کی حکایت ہی الگ ہے

افتخار راغب




پڑھتا رہتا ہوں آپ کا چہرہ
اچھی لگتی ہے یہ کتاب مجھے

افتخار راغب




راے اس پر مت کرو قائم کوئی
جانتے جس کو نہیں نزدیک سے

افتخار راغب




راغبؔ وہ میری فکر میں خود کو بھی بھول جائیں
ایسی تو کوئی بات نہیں چاہتا تھا میں

افتخار راغب




تم نے رسماً مجھے سلام کیا
لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے

افتخار راغب




یہ وصل کی رت ہے کہ جدائی کا ہے موسم
یہ گلشن دل ہے کہ بیابان کہیں کا

افتخار راغب




وہ کہتے ہیں کہ راغبؔ تم نہیں رکھتے خیال اپنا
میں کہتا ہوں کہ ہر دم فکر دامن گیر کس کی ہے

افتخار راغب