EN हिंदी
حسن نعیم شیاری | شیح شیری

حسن نعیم شیر

28 شیر

میں ایک باب تھا افسانۂ وفا کا مگر
تمہاری بزم سے اٹھا تو اک کتاب بنا

حسن نعیم




میں اپنی روح میں اس کو بسا چکا اتنا
اب اس کا حسن بھی پردہ دکھائی دیتا ہے

حسن نعیم




کیا فراق و فیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیمؔ
میرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے

حسن نعیم




کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے
ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

حسن نعیم




کوئی موسم ہو یہی سوچ کے جی لیتے ہیں
اک نہ اک روز شجر غم کا ہرا تو ہوگا

حسن نعیم




آ بسے کتنے نئے لوگ مکان جاں میں
بام و در پر ہے مگر نام اسی کا لکھا

حسن نعیم




خلوت امید میں روشن ہے اب تک وہ چراغ
جس سے اٹھتا ہے قریب شام یادوں کا دھواں

حسن نعیم




خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے
وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے

حسن نعیم




کم نہیں اے دل بے تاب متاع امید
دست مے خوار میں خالی ہی سہی جام تو ہے

حسن نعیم