ہمارے گھر سے جانا مسکرا کر پھر یہ فرمانا
تمہیں میری قسم دیکھو مری رفتار کیسی ہے
حسن بریلوی
الفت ہو کسی کی نہ محبت ہو کسی کی
پہلو میں نہ دل ہو نہ یہ حالت ہو کسی کی
حسن بریلوی
شیشہ اٹھا کر طاق سے ہم نے
طاق پہ رکھ دی ساقی توبہ
حسن بریلوی
پوچھتے جاتے ہیں یہ ہم سب سے
مجلس وعظ میں شراب بھی ہے
حسن بریلوی
او وصل میں منہ چھپانے والے
یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا
حسن بریلوی
کیا کہوں کیا ہے میرے دل کی خوشی
تم چلے جاؤ گے خفا ہو کر
حسن بریلوی
کس کے چہرے سے اٹھ گیا پردہ
جھلملائے چراغ محفل کے
حسن بریلوی
جو خاص جلوے تھے عشاق کی نظر کے لیے
وہ عام کر دیے تم نے جہان بھر کے لیے
حسن بریلوی
جان اگر ہو جان تو کیوں کر نہ ہو تجھ پر نثار
دل اگر ہو دل تری صورت پہ شیدا کیوں نہ ہو
حسن بریلوی

