میں ترک تعلق پہ بھی آمادہ ہوں لیکن
تو بھی تو مرا قرض غم ہجر ادا کر
حسن عباس رضا
یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہے
سو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا
حسن عباس رضا
اس کا فراق اتنا بڑا سانحہ نہ تھا
لیکن یہ دکھ پہاڑ برابر لگا ہمیں
حسن عباس رضا
تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے
پھر یوں ہوا ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے
حسن عباس رضا
تعلق توڑنے میں پہل مشکل مرحلہ تھا
چلو ہم نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے
حسن عباس رضا
سوا تیرے ہر اک شے کو ہٹا دینا ہے منظر سے
اور اس کے بعد خود کو بے سر و سامان کرنا ہے
حسن عباس رضا
شام وداع تھی مگر اس رنگ باز نے
پاؤں پہ ہونٹ رکھ دیے جانے نہیں دیا
حسن عباس رضا
سوال یہ نہیں مجھ سے ہے کیوں گریزاں وہ
سوال یہ ہے کہ کیوں جسم و جاں سے باہر ہے
حسن عباس رضا
محبتیں تو فقط انتہائیں مانگتی ہیں
محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا
حسن عباس رضا

