کب مجھے اس نے اختیار دیا
کب مجھے خود پہ اختیار آیا
حماد نیازی
وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں
میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں
حماد نیازی
عمر کی اولیں اذانوں میں
چین تھا دل کے کار خانوں میں
حماد نیازی
سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں
اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی
حماد نیازی
صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے
جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی
حماد نیازی
روز میں اس کو جیت جاتا تھا
اور وہ روز خود کو ہارتی تھی
حماد نیازی
پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں کوئی ہے کوئی ہے
یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی
حماد نیازی
پیڑ اجڑتے جاتے ہیں
شاخوں کی نادانی سے
حماد نیازی
میں اپنے باپ کے سینے سے پھول چنتا ہوں
سو جب بھی سانس تھمی باغ میں ٹہل آیا
حماد نیازی

