EN हिंदी
حفیظ میرٹھی شیاری | شیح شیری

حفیظ میرٹھی شیر

17 شیر

مے خانے کی سمت نہ دیکھو
جانے کون نظر آ جائے

حفیظ میرٹھی




یہ ہنر بھی بڑا ضروری ہے
کتنا جھک کر کسے سلام کرو

حفیظ میرٹھی




یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا

حفیظ میرٹھی




وہ وقت کا جہاز تھا کرتا لحاظ کیا
میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا

حفیظ میرٹھی




صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔ
دل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہے

حفیظ میرٹھی




شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے

حفیظ میرٹھی




شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا

حفیظ میرٹھی




رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہے
حفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نے

حفیظ میرٹھی




رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا

حفیظ میرٹھی