رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا
یہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا
جارج پیش شور
جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھ
اس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کی
جارج پیش شور
جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہ
تلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کا
جارج پیش شور
نہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا
شکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا
جارج پیش شور
پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما
آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا
جارج پیش شور
تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیا
کبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیا
جارج پیش شور
ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے
وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا
جارج پیش شور
اس ماہ رو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی
جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا
جارج پیش شور
جان پر اپنی ہائے کیوں بنتی
بات جو مانتے کبھی دل کی
جارج پیش شور

