EN हिंदी
جارج پیش شور شیاری | شیح شیری

جارج پیش شور شیر

20 شیر

جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھ
اس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کی

جارج پیش شور




عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائے
جو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کا

جارج پیش شور




اسی خیال میں دن رات میں تڑپتا ہوں
تمہیں قرار بھی دو گے جو بے قرار کیا

جارج پیش شور




اک نظر نے کیا ہے کام تمام
آرزو بھی تو تھی یہی دل کی

جارج پیش شور




اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاں
یار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جارج پیش شور




ہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام
کسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا

جارج پیش شور




ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسے
جیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جارج پیش شور




گزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کی سال نہیں
زمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا

جارج پیش شور




دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہے
پاس ہے اپنے آرسی دل کی

جارج پیش شور